چین کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اپنے سخت موقف کے چلتے بھارت کو جنگ کی جانب دھکیل رہے ہیں اور ان کے ہم وطنوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے ہیں.
چین کی سرکاری ملکیت 'گلوبل ٹائمز' میں شائع اداریہ میں کہا گیا ہے کہ مودی کو چین کی فوج کی بے پناہ طاقت سے واقف ہونا چاہئے جس ڈوكلام میں بھارتی فوجیوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے. بھارت کے ساتھ چل رہے سرحدی تنازعے پر گزشتہ کچھ دنوں سے چین اور چینی میڈیا کا رخ شدید ہوتا جا رہا ہے.
اس دوران چین کے وزیر دفاع نے بھی بیان دیا ہے کہ بھارت، چین کے صبر کا امتحان نہ لے.
وہیں بھارت ہمیشہ نپی-تلی رائے دیتا رہا ہے اور سکم سیکٹر کو لے کر پیدا ہوئے سرحدی تنازعے کے سامادھان کے لئے مذاکرات کا اعلان کرتا رہا ہے.
چینی اخبار لکھتا ہے کہ بھارت نے ایسے ملک کو چیلنج کیا ہے جو طاقت میں اس سے کہیں زیادہ بااثر ہے.
اداریہ میں کہا گیا ہے، '' یہ ایک ایسا جنگ گے، جس کا نتیجہ پہلے سے طے ہے. ''
وہیں اكھبر بھی کہتا ہے کہ ہندوستان نے اپنے موقف سے چین کو حیران کیا ہے. اداریہ میں کہا گیا ہے، '' سرحد پر تعینات بھارتی فوجی چینی فوج کے دشمن نہیں ہیں. اگر جنگ چھڑتا ہے تو پییلی سرحد پر تعینات بھارت کے تمام فوجیوں کو تباہ کرنے کے قابل ہے. مودی حکومت کا سخت رویہ نہ تو قانونی طور پر اور نہ ہی طاقت کی بنیاد پر کہیں ٹكتا ہے. مودی حکومت اتفاق سے بین الاقوامی قوانین توڑتي آ رہی ہے اور بھارت کی قومی وقار اور پرامن ترقی کو خطرے میں ڈال رہی ہے. ''
چینی اخبار آگے کہتا ہے، '' علاقائی سلامتی کے لئے اس (بھارتی فوج کی) سرگرمیاں غیر ذمہ دارانہ ہیں اور بھارت کے مستقبل اور اپنے ہم وطنوں کے مفاد کو داؤ پر لگانے والی ہیں. اگر مودی حکومت یہیں نہیں رکی تو وہ اپنے ملک کو جنگ کی جانب دھکیل دے گی، جس کا کنٹرول بھارت کے ہاتھ میں نہیں ہو گا. ''
اداریہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح چین کو نہیں بھڑکا سکتا.
غور طلب ہے کہ ایک دن پہلے ہی چین کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ ڈوكلام معاملے پر بھارت کو چین کے صبر کا امتحان نہیں لینی چاہئے اور ہمارا صبر اب ختم ہونے کو ہے.
چین کی وزارت دفاع نے بھارت کو تنازعہ کو ٹالنے کی حکمت عملی چھوڑنے کی وارننگ بھی دی. وزارت دفاع وہیں امن کی بات بھی کرتا ہے، '' ہم امن قائم ہونے کا موقع دینا چاہتے ہیں اور بھارت کو اس کے سنگین نتائج کا احساس کرنے کا وقت دینا چاہتے ہیں. ''
ڈوكلام معاملے پر چین کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز بیان آنے کے باوجود بھارت مسلسل کہتا رہا ہے کہ وہ سرحدی تنازعے کے حل کے لئے بیجنگ کے ساتھ سفارتی رابطہ برقرار رکھے گا اور جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا.
بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں کہا تھا، '' بھارت کا ہمیشہ خیال ہے کہ بھارت-چین سرحد پر امن ہمارے دو طرفہ تعلقات کے ہموار ترقی کے لئے اہم شرط ہے. ہم سفارتی مابیموں کے ذریعے چین کی طرف سے آستانہ میں اپنے رہنماؤں میں ہوئے رضامندی پر باہمی قابل قبول حل کے لئے مسلسل رابطہ جاری رکھیں گے. ''
انہوں نے کہا تھا، '' اس تناظر میں بھوٹان کے ساتھ روایتی اور منفرد دوستی برقرار رکھتے ہوئے ہم بھوٹان کی بادشاہت کے ساتھ بھی انتہائی مشاورت اور کوآرڈینیشن برقرار رکھیں گے. ''
(Click here for Android APP of IBTN. You can follow us on facebook and Twitter)
About sharing
22 Apr 2026
٢٠٢٦ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے عالمی اقتصادی اثرات اور تیل کی موجودہ قیمتوں کا تجزیہ
٢٠٢٦ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے عالمی اقتصادی اثرات اور تیل کی مو...
21 Apr 2026
فراموشی کے دہانے: اسلام آباد دوبارہ شروع ہونے سے پہلے نازک سکون
فراموشی کے دہانے: اسلام آباد دوبارہ شروع ہونے سے پہلے نازک سکون
07 Apr 2026
ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے پاکستان کو امن کی تجویز بھیج دی
ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے پاکستان کو امن کی تج...
07 Apr 2026
ایئر مین کو بچانے کے امریکی مشن کے بارے میں ایران نے کیا کہا؟
ایئر مین کو بچانے کے امریکی مشن کے بارے میں ایران نے کیا کہا؟
14 Feb 2026
بنگلہ دیش کے انتخابات: انتخابی نتائج اور ریفرنڈم کیسے نکلے؟
بنگلہ دیش کے انتخابات: انتخابی نتائج اور ریفرنڈم کیسے نکلے؟